ٹاؤن کمیٹیاں ختم، بجٹ، اثاثوں کی تقسیم سے مسائل بڑھنے کا خدشہ

ملتان (سپیشل رپورٹر) اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی بارے حکومت کا ایک اور “یوٹرن ” پی ٹی آئی دور حکومت میں بلدیاتی نظام میں آئے روز اکھاڑ پچھاڑ کے نئے ریکارڈ قائم،2019ء میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبہ پنجاب میں قائم

کی جانے والی 112ٹاؤ ن کمیٹیوں میں سے 96کو 30ہزار سے کم آبادی ظاہر کرکے یک جنبش قلم ختم کردیا گیا جنوبی پنجاب کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر،صوبہ بھر میں ختم کی جانے والی ضلع کونسلیں ختم کرکے پہلے ٹاؤن کمیٹیاں اور دو سال بعد ہی ٹاؤن کمیٹیاں ختم کرکے انھیں تحصیل کمیٹیوں میں ضم کرنے کے فیصلوں سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ٹاؤ ن کمیٹیا ں ختم ہونے سے بجٹ اور اثاثہ جات کی تقسیم پھر متاثر ہوگی،سرکاری ریکارڈ میں بھی تبدیلی سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی دور حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی وزیر اعظم پاکستان نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے صوبوں میں بلدیاتی نظام کی تبدیلی کیلئے پاکستا ن کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی اصلاحات کے احکامات جاری کئے تھے جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام میں تبدیلی لاتے ہوئے 2019ء میں صوبہ بھر کی تمام ضلع کونسلوں کو تحلیل کرتے ہوئے صوبہ بھر میں 112سے زائد نئی ٹاؤ ن کمیٹیاں قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور ان میں بجٹ اور اثاثوں کی تقسیم کے احکامات جاری کئے۔لیکن دو سال گزرنے کے باوجود نہ تو نئی اصلاحات کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اورنہ ہی ان اصلاحات پر عملدرآمد کیا گیا، بلکہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ بلدیات نے 18مئی کو یک جنبش قلم صوبہ بھر میں 30ہزار سے کم آبادی کا جواز پیش کرتے ہوئے صوبہ بھر کی 96ٹاؤن کمیٹیوں کے خاتمہ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹاؤن کمیٹیاں ختم ہونے سے جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویثر ن جن میں ملتان،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں 38ٹاؤن کمیٹیوں کو ختم کیا گیاہے،جبکہ ضلع ملتان میں قائم کی جانے والی 6میں 5ٹاؤن کمیٹیاں جن میں مخدوم رشید،لوٹھڑ،بستی ملوک،سکندرآباد اور قیصر پور شامل ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹاؤن کمیٹیوں کو ختم کرکے انھیں دوبارہ تحصیل کونسلوں میں ضم کیا گیا ہے جس کیلئے بجٹ اور اثاثوں سمیت ریکارڈ کی منتقلی بارے تاحال کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے جس سے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔اس ضمن میں متاثرہ حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مذکورہ صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Join The Discussion

Compare listings

Compare